Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

ہاتھوں کی لکیروں سے مستقبل کا حال جاننے کا حکم

Fatwa no.
3782-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کوئی ہاتھ کی لکیر دیکھ کر ہمیں کچھ بتائیں تو کیا ہمیں یقین کرنا چاہیے ؟

Answer (beginning)

اگر اس عقیدے کے ساتھ ہاتھ دکھا کر نجومی سے قسمت کا حال پوچھا کہ جو یہ بتائے گا، وہ قطعا یقینا حق ہو گا، تو یہ کفر ہے اور اگر یہ اعتقاد تو نہ ہو ، لیکن صرف رغبت و شوق کی وجہ سے ہو، تو گناہ کبیرہ و فسق ہے اور اگر مذاق کے طور پر ہو، تو مکروہ ہے اور اگر نجومی کو ہاتھ دکھانا اس کو عاجز کرنے کے لیے ہو ، تو حرج نہیں ہے، لیکن یہ آخری صورت کم ہی پائی جاتی ہے اور عمومار غبت و شوق سے ہی دکھایا جاتا ہے ، جو حرام و گناہ کبیرہ ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.