Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

حج قران کرنے والے نے کتنے طواف کرنے ہوتے ہیں؟

Fatwa no.
3780-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) حج قران میں جو عمرہ کیا جائے گا تو اس عمرہ میں جو طواف ہو گا کیا وہ طواف قدوم کہلائے گا یا پھر یہ عمرہ کرنے کے بعد الگ سے طواف قدوم کرنا ہو گا؟

Answer (beginning)

حج قران کرنے والے کو عمرہ کے طواف کے علاوہ الگ سے طواف قدوم کرنا ہوتا ہے ، لہذا اولا وہ عمرہ کے افعال ادا کرے گا اور اس کے بعد طواف قدوم کرے گا اور اگر حج کی سعی حج سے پہلے کرنا چاہے تو طواف قدوم کے بعد کر سکتا ہے۔ چنانچہ بحر الرائق میں ہے " يأتي بأفعال العمرة أولا من الطواف والسعي بين الصفا والمروة والرمل في الأشواط الثلاثة و السعي بين الميلين الأخضرين وصلاة ركعتي الطواف ثم يأتي بأفعال الحج كلها ثانيا فيبدأ بطواف القدوم ويسعى بعده إن شاء" ترجمہ: حج قران کرنے والا ، اولا عمرہ کے افعال بجالائے گا یعنی طواف اور صفا و مروہ کے در میان اور تین چکروں میں رمل اور دوسبز میلوں کے درمیان دوڑنا اور طواف…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.