Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

جس برف میں مچھلی رکھی گئی ہو، اس کے پانی کا حکم

Fatwa no.
3767-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) مچھلی کی دکانوں میں ریڑھی پر برف میں مچھلیوں کو رکھا جاتا ہے، اگر اس ریڑھی پر موجود پانی کپڑوں پر لگ جائے تو کیا حکم ہو گا؟ میں نے سنا ہے کہ مچھلی کا خون ناپاک نہیں کہ وہ در حقیقت خون ہی نہیں۔

Answer (beginning)

جی ! یہ بات درست ہے کہ مچھلی میں در حقیقت خون نہیں ہوتا اور اس کا جو سرخ رنگ کا مادہ ہو تا ہے وہ حقیقی خون نہیں ہو تالہذا مچھلی جس برف میں رکھی گئی اگر اس برف کا پانی کپڑوں پر لگتا ہے ، تو کپڑے ناپاک نہیں ہوں گے۔ ہدایہ میں ہے من حلف لا يأكل لحما فأكل لحم السمك لا يحنث و القياس أن يحنث لأنه يسمى لحمافي القرآن. وجه الاستحسان أن التسمية مجازية لأن اللحم منشاه من الدم ولادم فيه لسكونه في الماء“ ترجمہ: کسی شخص نے قسم اٹھائی کہ گوشت نہیں کھائے گا، پھر مچھلی کا گوشت کھالیا، تو وہ حانث نہیں ہو گا، جبکہ قیاس کا تقاضا یہ ہے کہ وہ حانث ہو جائے، کیونکہ مچھلی کو قرآن حکیم میں گوشت قرار دیا گیا ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.