Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
قرض واپس نہ ملنے پر کسی سے سفارش کروانا کیسا؟
- Fatwa no.
- 3766-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) میر اسوال یہ ہے کہ اگر میں نے کسی کو قرض دیا ہو اور اس نے مقررہ وقت تک لوٹانے کا بھی کہا، لیکن کئی سال گزر گئے ہیں اس نے واپس نہیں کیا، اور وہ مالی اعتبار سے بھی ہم سے بہتر ہے، اب مجھے اس وقت ان پیسوں کی شدید حاجت ہے، تو کیا سفارش کے طور پر کسی ایسے بندے سے یہ بات کر سکتا ہوں کہ جس پر یقین ہے کہ وہ اس سے کہے گا تو وہ قرض لوٹادے گا، تو کیا اس بندے سے یہ بات کر سکتا ہوں؟
Answer (beginning)
قرض دینے والے کی اجازت کے بغیر اس کی ادائیگی میں بلاوجہ ٹال مٹول اور دیر کر ناشر عانا جائز و گناہ ہے اور اسے حدیث پاک میں ظلم قرار دیا گیا ہے اور اپنے اوپر ہوئے ظلم کی فریاد کسی ایسے بندے سے کرنا جائز ہے کہ جس کے متعلق معلوم ہو کہ اس سے بات کرنے سے کام ہو جائے گا، لہذا اگر آپ کو معلوم ہے کہ اس بندے کی بات مان کر وہ مقروض قرض ادا کر دے گا تو اس سے بات کرنا آپ کے لئے جائز ہے۔ قرآن پاک میں ارشاد خداوندی ہے: مَنْ يَشْفَعْ شَفَاعَةً حَسَنَةٌ يَكُنْ لَهُ نَصِيبٌ مِنْهَا ترجمہ کنز الایمان: جو اچھی سفارش کرے اُس کے لیے اس میں سے حصہ ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.