Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
پاخانہ کے مقام سے خون یا کوئی مادہ نکلے تو وضو کا حکم
- Fatwa no.
- 3765-WAT
- Issued
- 29 شوال المکرم 1446ھ / 28 اپریل 2025 ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کسی کے پاخانہ کے مقام سے خون یا لیس دار مادہ جیسی کوئی چیز نکلے تو کیا اس سے وضو ٹوٹ جائے گا اور نماز جائز ہوگی؟
Answer (beginning)
پاخانہ کے مقام سے خون یا لیس دار مادہ نکلنے کی صورت میں وضو ٹوٹ جائے گا، اس کے بعد دوبارہ وضو کیے بغیر نماز پڑھی تو نماز نہیں ہو گی۔ ہدایہ میں ہے المعاني الناقضة للوضوء كل ما يخرج من السبيلين وكلمة "ما" عامة فتتناول المعتاد وغيره، ملتقطاً" ترجمہ : وضو کو توڑنے والی چیزوں میں سے ایک ہر وہ چیز ہے جو پیشاب و پاخانے کے مقام سے نکلے اور کلمہ "ما" عام ہے تو یہ عادہ نکلنے والی اور دوسری تمام چیزوں کو شامل ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.