Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

امام نے بھول کر نجس کپڑوں میں نماز پڑھادی تو اس کا حکم

Fatwa no.
3764-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر جسم یا لباس پر نجاست بقدر مانع لگی ہو اور اسی حالت میں بھول کر نماز پڑھائی ہو ، بعد میں نجاست کے لگنے کا علم ہوا تو اب نماز کا کیا حکم ہو گا؟ اس حوالے سے شرعی رہنمائی فرمائیں۔

Answer (beginning)

نماز کی پہلی شرط ہی طہارت یعنی نمازی کے بدن اور لباس کا نجاست بقدر مانع سے پاک ہونا ہے، لہذا صورت مسئولہ میں جب نجاست بقدر مانع لگی ہے تو طہارت کی شرط مفقود ہوئی جس کے سبب نماز اصلا نہ ہوئی، اب حکم یہ ہے کہ خود بھی وہ نماز دوبارہ پڑھے اور ساتھ ہی تمام مقتدیوں کو ( جو اس نماز میں شامل تھے ) بھی بتائے تاکہ وہ سب بھی اس نماز کو دوبارہ پڑھ لیں، اگر وقت میں ہی پڑھ رہے ہیں تو ادا کی نیت سے پڑھنا ہو گی اور اگر وقت گزرنے کے بعد پتا چلا تھا تو اب قضا کی نیت سے پڑھنا ہو گی۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.