Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کافر کے لیے دعا کرنا

Fatwa no.
3763-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) بعض اوقات غیر مسلم لوگ ہمیں کہتے ہیں کہ اپنی دعاؤں میں یا درکھنا۔ تو ان کو کیا جواب دیا جائے؟ ان کے لئے کیسی دعا کرنی چاہیئے ؟

Answer (beginning)

کافر کے لیے مغفرت کی دعانہ کی جائے، البتہ ہدایت اور ایمان کی دعا اس کے لیے کر سکتے ہیں، اس لیے جب وہ کہے کہ : " دعاؤں میں یادرکھنا!" تو اس سے دعا کا وعدہ کر سکتے ہیں اور دعا سے مراد ہدایت کی دعا ہونی چاہیے اور پھر اس کے لیے ہدایت اور ایمان کی دعا کرتے رہی۔ غیر مسلموں کے لئے ہدایت کی دعا کرنا حدیث پاک سے ثابت ہے، چنانچہ بخاری شریف کی روایت ہے " عن أبي هريرة رضي الله عنه، قال: جاء الطفيل بن عمر و إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال : إن دو ساقد هلکت عصت و أبت فادع الله عليهم، فقال: اللهم اهد دوسا وأت بهم " ترجمہ : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، وہ فرماتے ہیں: حضرت طفیل بن عمرو نبی کریم…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.