Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

بہن بھائیوں سے قطع تعلق کرنے کی قسم کھانا

Fatwa no.
3761-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) مجھ سے بیوی نے قسم لی تھی مسجد نبوی شریف میں کہ آپ نے اپنے گھر والوں سے بات نہیں کرنی، میرے بھائی بہن سب سے بات نہیں کرنی، ان کا کوئی قصور بھی نہیں۔ اب مجھ سے رہا نہیں جاتا بات کیسے بغیر ۔ میں سعودی عرب میں ہوں تو قسم توڑنے کا کیا حکم ہے ؟ ر ہنمائی کریں

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں آپ پر اپنے بہن بھائیوں سے بات کر کے یہ قسم توڑ دینالازم ہے لیکن اس کے بعد آپ پر قسم توڑنے کا کفارہ ادا کر نالازم ہو گا۔ کیونکہ یہ قسم ماں باپ، بہن بھائی وغیرہ ذی رحم محرم رشتہ داروں سے قطع تعلقی پر ہے جو گناہ کا کام ہے۔ اور ایسی قسم کھانا اور اس پر قائم رہناشر عانا جائز و گناہ ہے ، اور حدیث میں بھی اس سے ممانعت آئی ہے۔ خصوصا ایسی مقدس جگہ پر موجود ہو کر ایسے گناہ کی قسم کھا کر اور زیادہ برا کیا۔ لہذا اس کے کفارے کے ساتھ اس سے تو بہ بھی ضروری ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.