Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
بیڑی کی خرید و فروخت کا حکم
- Fatwa no.
- 3760-WAT
Question
دار الافتاء ابلسنت (دعوت اسلامی) بیڑی کی خرید و فروخت کا کیا حکم ہے؟
Answer (beginning)
بیڑی یہ سگریٹ کی طرح کا حکم رکھتی ہے کہ اس کا استعمال عام معمول کے مطابق کیا جائے تو اس سے نشہ نہیں ہو تا۔ لہذا اس کی خرید و فروخت بھی جائز ہے بشر طیکہ وہاں ممانعت کی کوئی دیگر وجہ مثلا قانونی ممانعت ہونا وغیرہ نہ ہو۔ حبیب الفتاوی میں ہے " ان چیزوں ( سگریٹ بیٹری حقہ پانی کا استعمال حلال و مباح ہے۔ ان سب کو حرام بتانا تجاوز عن حدود الشرع اور غلطی پر مبنی ہے۔ " (حبیب الفتاوی، جلد04،صفحہ86، شبیر برادرز، لاہور) وَ اللهُ أَعْلَمُ عَدَوَ جَل وَ رَسُولُه أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِهِ وَ سَلَّم دار الافيا اهليت Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami) www.fatwaqa.com f…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.