Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
وضو وغسل میں ناخنوں کے نیچے پانی بہانے کا حکم
- Fatwa no.
- 3759-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) میں صرف جمعہ کے دن ناخن کاٹنا چاہتی ہوں لیکن مجھے پہلے کاٹنے پڑتے ہیں کیونکہ مجھے لگتا ہے کہ جیسے ہی تھوڑے بڑھتے ہیں تو ناخنوں کی وجہ سے پانی نیچے والی جلد تک نہیں پہنچتا، خاص طور پر پاؤں کے ناخنوں میں۔ کیا دو جمعوں کے در میان جو ناخن بڑھتے ہیں ان کے نیچے والی جلد دھو ناضروری ہے ؟ ور نہ وضو نہیں ہو گا؟
Answer (beginning)
اگر ناخنوں میں میل نہ ہو تو فرض غسل و وضو میں ان کے نیچے جو جلد ظاہر ہو رہی ہے اس پر پانی بہاناضروری ہے ، نہیں بہایاتو وضو و غسل نہیں ہو گا، ہاں اگر ان میں میل ہو ، تو میل کو نکالنا ضروری نہیں، اس کے اوپر سے پانی بہہ جائے، تب بھی وضو غسل ہو جائے گا۔ نوٹ: یہ بات بھی یاد رہے کہ ! جمعہ کے دن ناخن تر شو انا مستحب ہے، اور اگر زیادہ بڑھ گئے ہوں تو جمعہ کا انتظار نہیں کرنا چاہیے کہ ناخن بڑا ہونا اچھا نہیں کہ رزق کی تنگی کا سبب ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.