Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

نماز میں سلام کا جواب دینے کا حکم

Fatwa no.
3757-WAT
Issued
22 شوال المکرم 1446ھ / 21 اپریل 2025 ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا نماز کے دوران سلام کا جواب دینے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے ؟

Answer (beginning)

نماز کے دوران زبان سے سلام کا جواب دینا، در حقیقت سلام کرنے والے شخص سے کلام کرنا ہے اور نماز کے دوران کلام کرنا مفسدات ( نماز کو توڑ دینے والے کاموں) میں سے ہے ، لہذ انماز کے دوران کسی کے سلام کا جواب دینے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے۔ صحیح مسلم کی حدیث پاک میں ہے " عن عبد الله قال» کنا نسلم على رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم وهو في الصلاة فيرد علينا، فلما رجعنا من عند النجاشي سلمنا عليه فلم يرد علينا. فقلنا: يارسول الله، كنا نسلم عليك في الصلاة فترد علينا؟

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.