Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

نماز میں بنا کرنے کا ثبوت

Fatwa no.
3756-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ نماز میں بنا کرنے کا جواز کہاں سے ثابت ہے ؟ اور بنا کس طرح کی جاتی ہے مجھے سمجھ نہیں آرہا ہے کیونکہ میں نے یہ مسئلہ سنا ہے کہ نماز میں تین قدم چلنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے ، تو جس شخص کا نماز میں وضو ٹوٹ جائے ، وہ کس طرح وضو کر کے اپنی نماز کو وہاں سے ہی پڑھے گا حالانکہ وضو کے لیے اسے تین قدم سے زیادہ چلنا پڑے گا، جو کہ عمل کثیر ہے اور یہ نماز کے منافی ہے ؟ اس حوالے سے شرعی رہنمائی فرمائیں۔

Answer (beginning)

بلا شبہ نماز میں لگاتار تین قدم چلنا عمل کثیر ہے اور اس سے نماز فاسد ہوتی ہے، لیکن اس سے وہ صورت خارج ہے کہ جب کسی کار یح وغیرہ سے وضو ٹوٹ جائے اور وہ نماز کی اصلاح کی خاطر وضو کرنے جائے یعنی بنا کی خاطر چلنے کی صورت مستثنی ہے اور یہ استثناء بے دلیل نہیں بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صریح فرمان کی وجہ سے ہے لہذا انماز میں بنا کر نا خلاف قیاس، احادیث مبارکہ اور صحابہ کرام علیہم الرضوان کے اجماع سے ثابت ہے، اگر چہ عقل اس بات کا تقاضہ کرتی ہے کہ ایسے شخص کو نماز ہی دوبارہ پڑھنی چاہئے لیکن چونکہ نماز میں بنا کرنے کے جواز پر نص وارد ہو چکی ہے تو اب عقل کو اس میں کوئی دخل نہیں ہو گا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.