Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
مہرش رضا نام کا مطلب اور رکھنے کا حکم
- Fatwa no.
- 3753-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ بچے کا نام مہرش رضار کھ سکتے ہیں یا نہیں رکھ سکتے ؟
Answer (beginning)
مهرش فارسی کے دو الفاظ کا مجموعہ ہے اور اس کا معنی ہے " اس کا سورج " معنی کے لحاظ سے یہ نام رکھ سکتے ہیں، البتہ ! مستحب اور بہتر یہ ہے کہ بچے کا نام انبیائے کرام علیہم الصلاۃ والسلام یا صحابہ و تابعین و بزرگان دین علیہم الرضوان کے نام پر رکھا جائے کہ حدیث پاک میں اچھوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب دی گئی ہے اور امید ہے کہ ایسا کرنے سے ان کی برکت بچہ کے شامل حال ہو جائے۔ فیروز اللغات فارسی-اردو میں ہے: ”مہر : سورج، آفتاب، خورشید “ (فیروز اللغات، صفحه 1108، مطبوعہ لاہور) اسی میں ہے: ”شین: لفظ کے آخر میں آئے تو ضمیر واحد غائب کے معنوں میں آتا ہے مثلا کتابش اس کی کتاب۔ دید مش میں نے اسے دیکھا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.