Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

ماں باپ اولاد کے ساتھ بد سلوکی کریں تو اولاد کے لیے حکم

Fatwa no.
3748-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کوئی ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرنا چاہتا ہے لیکن ماں باپ دماغی مسئلہ یا کسی اور وجہ سے بد سلو کی کر ڈالتے ہیں، تو اب اولاد کو کیا کرنا چاہیئے ؟

Answer (beginning)

انسان کو بہر صورت ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا گیا ہے، اور اگر کسی کے والدین یا ان میں سے کوئی بیمار ہو تو اس صورت میں اور بھی زیادہ ان کے ساتھ حسن سلوک کیا جائے گا اور اگر والدین کبھی بلاوجہ بھی بد سلو کی کریں مثلا والدین میں سے کوئی ڈانٹے ، یا برا بھلا کہے، تو تب بھی اولاد کو یہ حق ہر گز نہیں پہنچتا کہ والدین کو جواب دے، انہیں برا بھلا کہے، یا ان کے غصے کا جواب غصے سے دے، کہ قرآن کریم میں انہیں ”اُف تک کہنے سے منع کیا گیا ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.