Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
بچی کا نام شائزہ رکھنا
- Fatwa no.
- 3745-WAT
Question
(دعوت اسلامی) میں اپنی بیٹی کا نام شائزہ رکھنا چاہتا ہوں کیا یہ نام معنی وغیرہ کے اعتبار سے درست ہے ؟
Answer (beginning)
شائزہ، یہ اسم فاعل واحد مؤنث کا صیغہ ہے، اگر باب سمع سے ہو تو اس کا معنی ہے: سخت و ناہموار، بے آرام ، ڈرنے والی۔ " اور اگر باب فتح سے ہو تو اس کا معنی : " جماع کرنے والی۔" پس ان معانی کے لحاظ سے یہ نام رکھنا مناسب نہیں۔ لہذا اس نام کی بجائے اپنی بیٹی کا نام صحابیات ، صالحات رضی اللہ تعالی عنہن کے نام پر رکھیں تاکہ صحابیات ، صالحات رضی اللہ تعالی عنہن کے نام پر نام رکھنے کی برکات بھی حاصل ہوں ، اور احادیث پر عمل کرنے کی نیت سے بھی اس طرح اچھے نام رکھیں، کیونکہ احادیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اچھے نام رکھنے کی ترغیب بھی ارشاد فرمائی ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.