Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
قعدہ اور جلسہ میں دونوں پاؤں کھڑے کرکے بیٹھنے کا حکم
- Fatwa no.
- 3741-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ دو سجدوں کے درمیان اور قعدہ میں دونوں پاؤں کھڑے کر کے ان پر اپنی مقعد رکھ کر بیٹھنا کیسا اگر چہ ایک پاؤں کھڑا کر کے اور ایک پاؤں بچھا کر بیٹھنے پر قدرت رکھتا ہو ، ایسی صورت میں نماز کا کیا حکم ہو گا؟ شرعی رہنمائی فرمائیں۔
Answer (beginning)
مردوں کے لیے قعدے اور دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنے کا سنت طریقہ افتراش ہے یعنی الٹا پاؤں بچھا کر اس بیٹھے اور سیدھا پاؤں کھڑا کر کے اس کی انگلیاں قبلہ رُور کھے ، لہذا ابلا عذر سوال میں بیان کردہ طریقے کے مطابق بیٹھنا، سنت طریقے کے مخالف ہونے کی وجہ سے مکروہ تنزیہی ہے ، ہاں ! عذر کی وجہ سے اس طرح بیٹھنا بلا کراہت جائز ہے۔ صحیح بخاری اور سنن نسائی میں حضرت عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں: " إنما سنة الصلاة أن تنصب رجلك اليمنى، وتثني اليسرى وزاد النسائى واستقباله بأصابعها القبلة، والجلوس على اليسرى " نماز میں سنت یہ ہے کہ تم اپنا دایاں پاؤں کھڑار کھو اور بایاں پاؤں…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.