Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
میت کا ترکہ مسجد میں یا ضرورت مندوں کو دینا
- Fatwa no.
- 3740-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ میرے والد محترم کی بہن کا انتقال ہو گیا ہے ، ان کا ترکہ ان کے بچوں کو دینا ضروری ہے یا مسجد وغیرہ ضرورت مندوں کو دے سکتے ہیں، ان کی کوئی وصیت وغیرہ نہیں تھی، اس حوالے سے شرعی رہنمائی فرمائیں ؟
Answer (beginning)
ورثہ کی اجازت کے بغیر ، ان کا حصہ ان کے علاوہ کسی اور کو دینا شر عا جائز نہیں ہے ، نہ مسجد وغیرہ میں اور نہ کسی ضرورت مند و غیرہ کو، البتہ ! اگر سب ورثہ بالغ ہوں تو ان میں سے جس کی طرف سے اجازت ہو ، اس کی اجازت سے اس کے حصے میں سے اس کے بیان کر وہ کسی جائز مقام پر خرچ کیا جا سکتا ہے ، اور جو وارث نابالغ ہو اس کی اجازت کا اعتبار نہیں ہے لہذا اس کا حصہ کسی اور جگہ خرچ نہیں کر سکتے اگر چہ وہ اجازت بھی دے دے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے وَتَأْكُلُونَ التَّرَاثَ اكلائها ترجمہ کنز العرفان : ” اور میراث کا سارا مال جمع کر کے کھا جاتے ہو اور مال سے بہت زیادہ محبت رکھتے ہو ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.