Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
مقتدی امام کے پیچھے کچھ بھی نہ پڑھے تو نماز کا حکم
- Fatwa no.
- 3734-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر مقتدی امام کے پیچھے کچھ بھی نہ پڑھے، تو کیا اس کی نماز ہو جائے گی ؟
Answer (beginning)
نماز میں پڑھنے سے تعلق رکھنے والی صرف ایک چیز فرض ہے اور وہ ہے قراءت، اور احناف کے نزدیک مقتدی نے قرءات نہیں کرنی ہوتی ، اور اس کے علاوہ پڑھنے سے تعلق رکھنے والی چیزیں یا تو واجب ہیں یا سنت و مستحب، اور سنت و مستحب ترک کرنے سے نہ نماز فاسد ہوتی ہے اور نہ سجدہ سہو لازم ہوتا ہے اور نہ نماز واجب الاعادہ ہوتی ہے ، ہاں جان بوجھ کر بلا عذر سنت موکدہ کا ترک کرنا اساءت ہے ، جبکہ جن کا پڑھنا واجب ہے مثلا قعدے میں تشہد کا پڑھنا، اسی طرح جب و تر جماعت سے ادا کرے تو دعائے قنوت پڑھنا وغیرہ ان میں سے کسی کو قصد اچھوڑنے سے نماز فاسد تو نہیں ہو گی لیکن ناقص اور واجب الاعادہ ہو گی اور چھوڑنے والا گنہگار بھی…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.