Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
ام عمارہ نام رکھنا اور اس کا مطلب
- Fatwa no.
- 3733-WAT
Question
دار الافتاء ابلسنت (دعوت اسلامی) میر اسوال یہ ہے کہ بچی کا نام ام عمارہ رکھنا کیسا ہے؟
Answer (beginning)
جی ہاں ! بچی کانام ام عمارہ رکھنا بالکل جائز ہے، کیونکہ یہ نام صحابیہ رسول حضرت سید تنائی به بنت کعب رضی اللہ عنہا کی کنیت ہے اور کنیت کو بطور نام رکھنا درست ہے۔ نیز " عمارہ " کا معنی ہے: " بہت زیادہ نماز وروزہ رکھنے والی"، تو ائم عمارہ کا معنی ہو جائے گا کہ بہت زیادہ نماز وروزہ رکھنے والی کی ماں، اس نام میں نیک فال بھی ہے کہ ان شاء اللہ عز و جل اس لڑکی کی اولاد نیک ہو گی۔ عمار کے معنی کے متعلق المعجم الوسیط میں ہے " (العمار) : الكثير الصلاة والصيام " ترجمہ : عمار کا معنی " بہت زیادہ نماز و روزہ رکھنے والا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.