Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
قعدہ اولیٰ میں شریک ہوتے ہی امام صاحب کھڑے ہوگئے تو حکم
- Fatwa no.
- 2055-Web
- Issued
- 09 جمادی الاخرى 1446ھ / 12 دسمبر 2024ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کوئی مقتدی قعدہ اولیٰ میں امام کے ساتھ جماعت میں شریک ہوا، ابھی بیٹھا ہی تھا کہ امام صاحب کھڑے ہو گئے ، اب مقتدی فوراً کھڑا ہو جائے یا التحیات پڑھ کے کھڑا ہو ؟
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں مقتدی پر لازم ہے کہ وہ تشہد پوری پڑھے اور پھر کھڑ اہو اور امام کے ساتھ شریک ہو جائے، کیونکہ تشہد کا پڑھنا واجبات میں سے ہے اور جب کسی واجب کی ادائیگی کرنے سے امام کی پیروی میں تاخیر لازم آتی ہو تو وہ واجب نہیں چھوڑا جائے گابلکہ واجب کی ادائیگی کے بعد امام کی پیروی کی جائے گی اور امام کی پیروی کرنے میں یہ تاخیر ضرورت شرعی کی بنا پر ہے لہذا اس میں کچھ حرج نہیں اور کوشش کرے تشہد جلد پورا پڑھ کر امام کے ساتھ مل جائے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.