Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
رشتہ کے وقت لڑکی والوں کا پیسوں کی ڈیمانڈ کرنا کیسا؟
- Fatwa no.
- 2015-Web
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) لڑکی کا رشتہ لیتے وقت لڑکی والوں کی طرف سے اگر پیسوں کی ڈیمانڈ ہو ، تو کیا دو لہے والے پیسے دے سکتے ہیں لڑکی والوں کو ؟ یہ جائز ہے یا نہیں؟
Answer (beginning)
رشتہ دینے کے عوض رقم کا مطالبہ کرنا اور اس رقم کے بدلے رشتہ دینانا جائز و حرام ہے کہ یہ رشوت ہے اور رشوت کا لین دین کرنا حرام و گناہ ہے۔ ایسی رقم وواپس کرناضروری ہے۔ بحر الرائق میں ہے: ”لو خطب امرأة في بيت اخيها فابي الاخ الا ان يدفع اليه دراهم فدفع ثم تزوجها كان للزوج ان يسترد ما دفع لہ یعنی اگر آدمی نے ایسی عورت کو نکاح کا پیغام دیا جو اپنے بھائی کے گھر ہے ، بھائی اسی صورت میں بہن کا نکاح اس سے کرنے پر راضی تھا کہ وہ اس کو دراہم دے، آدمی نے دراہم دے دئے اور لڑکی سے نکاح کر لیا، تو شوہر کو دئے ہوئے در اہم واپس لینے کا اختیار ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.