Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا حفاظتی اقدامات کرنا توکل کے خلاف ہے؟

Fatwa no.
2014-Web

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) ایک شخص کا کہنا یہ ہے کہ اگر زندگی اور موت اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اور اس میں کوئی شک بھی نہیں، تو پھر انسان اپنے لیے سیکورٹی گارڈ وغیرہ حفاظتی اقدامات کیوں کرتا ہے ؟ کیا اس کو اللہ پر توکل و یقین نہیں؟

Answer (beginning)

بے شک زندگی اور موت اللہ عزوجل کے دست قدرت میں ہے مگر اس کے باوجود ہم کھانا کھاتے ہیں، رزق حلال کے لیے جستجو کرتے ہیں، بیمار پڑ جائیں تو دوا استعمال کرتے ہیں یونہی بے تحاشا ظاہری اسباب اختیار کرتے ہیں، اور ان سب چیزوں کے احکام ہمیں اللہ عزوجل اور اس کے پیارے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے بتائے ہیں لہذاجب کسی کی جان کو خطرہ ہو تو اسے سیکورٹی گارڈ اور دیگر اقدامات ضرور کرنے چاہیں۔ اپنی جان کی حفاظت کے لیے گارڈرکھنا توکل کے ہر گز خلاف نہیں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.