Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

جوقوم بندر بنا دی گئی تھی، کیا وہ اسی حالت میں مر گئے تھے؟

Fatwa no.
2013-Web

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) سورہ بقرہ کی آیت نمبر 65 میں جس قوم کے بارے میں ذکر ہوا جو بندر بنادیئے گئے ، کیا وہ ہفتہ کے دن نافرمانی کر کے کفر میں مبتلا ہو کر بندروں کی شکل میں مر گئے تھے ؟

Answer (beginning)

جی ہاں! اللہ عزوجل قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے: "وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ الَّذِينَ اعْتَدَوْا مِنْكُمْ فِي السَّبْتِ فَقُلْنَا لَهُمْ كُونُوا قِرَدَةً خَسِينَ “ ترجمہ کنز العرفان: اور یقینا تمہیں معلوم ہیں وہ لوگ جنہوں نے تم میں سے ہفتہ کے دن میں سرکشی کی۔ تو ہم نے ان سے کہا کہ دھتکارے ہوئے بندر بن جاؤ۔ (سورہ البقرہ، آیت : 65) تفسیر صراط الجنان میں اس آیت کے تحت ہے: ”شہر ایکہ میں بنی اسرائیل آباد تھے انہیں حکم تھا کہ ہفتے کا دن عبادت کے لیے خاص کر دیں اور اس روز شکار نہ کریں اور دنیاوی مشاغل ترک کر دیں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.