Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

اجرت میں کچھ پیسے زکوٰۃ کے شامل کر کے دینا کیسا؟

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کوئی کسی سے کوئی کام کروائے، کام کے بعد جب اس کی اجرت دے، اس میں وہ کچھ پیسے زکوۃ کے بھی ملادے، تو کیا اس طرح سے زکوۃ ادا ہو جائے گی ؟

Answer (beginning)

زکوۃ کی رقم بطور اجرت دینے سے زکوۃ ادا نہیں ہوتی، لہذا جس ملازم کی جو تنخواہ واجرت اس نے مقرر کی تھی، اسی میں مکمل اجرت یا اجرت کا کچھ حصہ زکوۃ کی نیت سے دیا، تو اس طرح زکوۃ کی نیت کر کے دینے سے زکوۃ ادا نہیں ہو گی، بلکہ دی جانے والی رقم اجرت ہی شمار ہو گی اور زکوۃ کی ادائیگی الگ سے کرنالازم ہو گا۔ اعلیٰ حضرت امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”اگر وہ دینے والے خاص بقصد معاوضہ و بطور اجرت دیتے یانیت زکوۃ کے ساتھ یہ نیت بھی ملا لیتے ، تو بیشک زکوۃ ادانہ ہوتی۔ اما علی الاول فلعدم النية و اما علی الثانی فلعدم الاخلاص۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.