Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
نابالغ کے روزہ توڑنے پر قضا یا کفارہ کا حکم؟
Question
دار الافتاء ابلسنت (دعوت اسلامی) زید نے اپنے ماضی پر غور و فکر کیا تو اسے یاد آیا کہ اس نے دس سال کی عمر میں جب وہ نابالغ تھا ایک روزہ توڑا تھا، معلوم یہ کرنا ہے کہ زید نے جو روزہ توڑا تھا، کیا اس پر اس روزے کا کفارہ اور قضالا زم ہوگی ؟
Answer (beginning)
جب زید نے یہ روزہ توڑا اس وقت وہ بالغ نہیں تھا، تو روزہ توڑنے کی وجہ سے نہ وہ گنہ گار ہوا ہے اور نہ ہی اس پر اس روزے کی قضا یا کفارہ لازم ہے کہ نابالغ بچہ نہ تو روزہ توڑنے کے سبب گنہگار ہو تا ہے اور نہ ہی اس پر قضا یا کفارہ لازم ہوتا ہے۔ فتاوی رضویہ میں ہے: نابالغ پر تو قلم شرع جاری ہی نہیں وہ اگر بے عذر بھی افطار کرے اُسے گنہ گار نہ کہیں گے۔ "لقوله صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم رفع القلم عن ثلثة الى قوله صلى الله تعالى عليه وسلم وعن الصبى حتى يحتلم۔ کیونکہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: تین افراد سے قلم اٹھالیا گیا ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.