Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
نماز میں ریح خارج ہونے سے روکنے کا حکم؟
- Fatwa no.
- 2001-Web
- Issued
- 22 ربیع الآخر 1446ھ / 26 اکتوبر 2024ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر باجماعت نماز کے دوران یا ویسے ہی کوئی انسان خود سے ریح خارج ہونے کو روکے ، تو کیا اس سے نماز اور وضو پر کوئی فرق پڑتا ہے؟
Answer (beginning)
ریح جب تک خارج نہ ہو ، وضو نہیں ٹوٹتا، تاہم نماز سے پہلے ریح کا غلبہ ہو تو نماز شروع کرنا، جائز نہیں، نیز دورانِ نماز ، ریح کا غلبہ بہر حال نماز کو مکروہ تحریمی کر دیتا ہے یعنی اسی حالت میں نماز جاری رکھنا، ناجائز و گناہ ہے ، اگر دورانِ نماز یہ حالت پیش آئی اور وقت میں گنجائش ہو تو نماز توڑ دینا واجب ہے، اگر اسی طرح نماز پڑھ لی تو نماز واجب الاعادہ ہو گی۔ بہارِ شریعت میں ہے : ” جس بات سے دل بے اور دفع کر سکتا ہو اسے بے دفع کیے ہر نماز مکروہ ہے مثلاً پاخانے یا پیشاب یا ریاح کا غلبہ ہو۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.