Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

دارالحرب میں فوت ہونے والے مسلمان کی وراثت

Fatwa no.
1969-Web

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) میرے والد اسپین میں مقیم تھے اور میری دادی پاکستان میں رہتی تھیں، میرے والد کا ان کے پاس پاکستان آنا جانا رہتا تھا، لیکن میری دادی کا انتقال اس وقت ہوا جب میرے والد اسپین میں تھے ، اب معلوم یہ کرنا ہے کہ دادی کے انتقال کے وقت میرے والد دار الحرب میں تھے ، تو کیا دادی کی وراثت میں میرے والد کا حصہ نہیں ہو گا ؟

Answer (beginning)

آپ کے والد کا وطن اصلی پاکستان ہو یا اسپین، وہ آپ کی دادی کے انتقال کے وقت پاکستان میں موجود ہوں یا اسپین میں بہر صورت آپ کے والد اپنی والدہ کا ترکہ پائیں گے اور اس میں حصہ دار ہوں گے ۔ بہار شریعت میں ہے: ” پاکستان کے مسلمان اور وہ مسلمان جو ہندوستان ، امریکہ ، یورپ یا کہیں اور رہتے ہوں، ایک دوسرے کے وارث ہوں گے۔“ (بہار شریعت، جلد 3،صفحہ1114،مکتبۃ المدینه، کراچی) وَ اللهُ أَعْلَمُ عَدَدَ جَل وَ رَسُولُه أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِهِ وَ سَلَّم دار الافتاء اهليت Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami) www.fatwaqa.com Dar-ul-ifta…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.