Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

حائضہ عورت عمرے کا احرام کہاں سے باندھے؟

Fatwa no.
1990-Web
Issued
25 ربیع الآخر 1446ھ / 29اکتوبر 2024ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کوئی عورت ہند سے مکہ مکرمہ عمرہ کرنا جائے اور اس دوران اس کے حیض کے ایام چل رہے ہوں ، تو اب وہ عمرہ کا احرام کہاں سے باندھے گی اپنے ملک سے یا مسجد عائشہ سے ؟

Answer (beginning)

حیض کی حالت میں عمرے کا احرام باندھنا جائز ہے، لہذا ایسی عورت اپنے میقات پر یا میقات سے پہلے کہیں سے بھی عمرے کی نیت کر سکتی ہے۔ یو نہی اگر پاکی کی حالت میں احرام باندھا ہو تو محض حیض آنے سے احرام کی پابندیاں ختم نہیں ہوں گی، ان دونوں صورتوں میں عورت پر لازم ہے کہ وہ پاک ہونے کا انتظار کرے،جب پاک ہو جائے تو طہارت کی حالت میں تمام افعالِ عمرہ ادا کر کے عمرہ مکمل کرے۔ یادر ہے کہ عمرے کی ادائیگی کرتے ہوئے طواف کرنا اس کا رکن یعنی فرض ہے ، اور واجبات طواف میں سے ایک واجب نجاست حکمیہ یعنی حیض و نفاس اور جنابت وغیرہ سے پاک ہونا ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.