Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
محارب نام رکھنا کیسا؟
- Fatwa no.
- 1987-Web
Question
(دعوت اسلامی) محارب کیا کسی صحابی کا نام ہے ؟ اور محارب نام میم کے زبر کے ساتھ ہے یا پیش کے ساتھ ؟ اور یہ نام رکھنا کیسا؟
Answer (beginning)
مُحارِب میم کے پیش کے ساتھ رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے صحابی رضی اللہ عنہ کا نام ہے لہذا یہ نام رکھنا، جائز ہے البتہ میم کے زبر کے ساتھ یہ نام صحابی رسول کا نہیں ہے اور شرعی اعتبار سے بچوں کے نام انبیائے کرام علیهم السلام یا صحابہ کرام عليهم الرضوان یا صالحین امت عليهم الرحمہ اور بچیوں کے نام صحابیات رضوان اللہ عليهن یا صالحات امت رحمۃ اللہ علیھن کے ناموں پر رکھے جائیں۔ اصابہ میں ہے: ” محارب بن قیس بن عدس بن ربيعة بن جعدة العامري ثم الجعدي. له إدراك “ يعنى محارب بن قیس بن عدس بن ربیعہ بن جعدہ عامری جاعدی، ان کو نبی پاک صلی اللہ علیہ و سلم کی صحبت حاصل ہوئی۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.