Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
حجِ قران و حجِ افراد والا طوافِ قدوم کب کرے؟
- Fatwa no.
- 1997-Web
- Issued
- 11 جمادی الاول 1446ھ / 14 نومبر 2024ء
Question
دار الافتاء ابلسنت (دعوت اسلامی) کیا حج قران یا حج افراد کرنے والا مکہ جاتے ہی طواف قدوم کرے گا؟
Answer (beginning)
قارن اور مفرد دونوں کے لیے طواف قدوم کرنا سنت ہے جبکہ متمتع کے لیے سنت نہیں اور منفر د یعنی صرف حج کا احرام باندھ کر مکہ شریف حاضر ہونے والا جو پہلا طواف کرے گا وہ طواف قدوم ہو گا جبکہ قارن پر واجب ہے کہ مکہ شریف حاضر ہو کر پہلے عمرے کا طواف کرے، پھر سعی کرے اور اس کے بعد حلق یا تقصیر کر وائے بغیر طواف قدوم کی نیت سے سات پھیرے طواف کرے۔ چنانچہ بہار شریعت میں ہے: ” طواف قدوم مفرد اور قارن کے لیے سنت ہے، متمتع کے لیے نہیں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.