Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

زخم دھونے کے بعد چپک باقی ہے تو کیا حکم ہے؟

Fatwa no.
1997-Web
Issued
10 جمادی الاول 1446ھ / 13 نومبر 2024ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) زخم سے پیپ نکلی ، تو اس کو صاف پانی سے دھو لیا، دھونے کے بعد بھی اس میں چپک باقی تھی، جو پانی سے دور نہ ہوئی، لیکن وہ زخم کے اندر ہی تھی، تو کیا اب اگر اس زخم سے کپڑا وغیرہ لگے، تو نا پاک ہو جائے گا ؟

Answer (beginning)

زخم سے پیپ بہہ کر نکل آئی، تو وہ ناپاک ہے اور وضو توڑ دے گی۔ اور اگر زخم کی پیپ و غیر ہ بہہ نہیں رہی بلکہ صرف چپک ہے ، تو اس چپک کے کپڑے وغیرہ سے لگنے سے کپڑے وغیر ہ نا پاک نہیں ہوں گے اگر چہ کئی جگہوں پر لگ جائے۔ فتاوی رضویہ میں ہے : ” اگر خارش کے دانوں پر کپڑا مختلف جگہ سے بار بار لگا اور دانوں کے منہ پر جو چیک پیدا ہوتی ہے جس میں خود باہر آنے اور بہنے کی قوت نہیں ہوتی اگر دیر گزرے تو وہ وہاں کی وہیں رہے گی اُس چپک سے سارا کپڑا بھر گیا ناپاک نہ ہو گا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.