Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
ناپاک دیوار پر پینٹ کردیا جو سوکھ گیا، تو کیا حکم ہے؟
- Fatwa no.
- 1996-Web:
- Issued
- 12 جمادی الاول 1446ھ /15نومبر 2024ء
Question
(دعوت اسلامی) دیوار کا کچھ حصہ ناپاک تھا، اس جگہ پینٹ کر دیا اور وہ پینٹ سوکھ گیا، دوسری چیزوں پر منتقل نہیں ہو رہا، سوکھنے کے بعد اس پر پانی لگ جائے ، تو کیا وہ ناپاک ہو کر دوسری چیزوں کو بھی ناپاک کر سکتا ہے؟
Answer (beginning)
سب سے پہلے تو یہ بات سمجھ لیجئے کہ زمین یازمین میں بڑی ہوئی چیزیں جیسے اینٹ، ٹائل وغیر ہ اور ایسی چیزیں جو زمین کے ساتھ اتصال قرار کے ساتھ متصل ہوں جیسے دیواریں، ان تمام چیزوں سے متعلق یہ اصول ہے کہ اگر وہ ناپاک ہو جائیں، تو انہیں دھو کر پاک کرنا ضروری نہیں بلکہ خشک ہونے سے بھی پاک ہو جائیں گی، جبکہ نجاست کا اثر یعنی رنگ، بو یا ذائقہ باقی نہ ہو، لہذا دیوار اگر اسی طرح خشک ہو چکی تھی، تو پاک ہو گئی تھی اگر چہ اس پر پینٹ بعد میں کیا ہو اور اگر خشک ہونے سے پہلے پینٹ کر دیا تھا تب بھی ہوتا یہی ہے کہ وہ چیز اور پینٹ سب خشک ہو جاتے ہیں اور نجاست کا اثر باقی نہیں رہتا، لہذا اس کے بعد پانی وغیرہ لگنے…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.