Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

دو بچوں میں سے ایک بچہ نکال لیا، اب جو خون آئے وہ نفاس ہوگا یا نہیں؟

Fatwa no.
1977-Web

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) جوڑواں بچوں سے حاملہ خاتون کا ایک بچہ سات ماہ کا پیٹ میں فوت ہو گیا اور دوسرا بچہ زندہ تھا، ڈاکٹر ز نے مردہ بچے کو نکال دیا جبکہ زندہ بچہ ابھی پیٹ میں ہے، عورت کو خون آنا شروع ہو گیا، تو یہ خون نفاس کا ہو گا یا نہیں؟

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں پہلے بچے کے نکلنے بعد اگر خون آنا شروع ہو گیا، تو اس پر نفاس کے احکام جاری ہو جائیں گے اور نفاس کی انتہائی مدت یعنی 40 دن کا شمار بھی اسی وقت سے کیا جائے گا، نیز بچہ کے پیٹ میں فوت ہو جانے سے نفاس کے احکام پر کوئی اثر نہیں پڑتا، کیونکہ بہر حال چاہے بچہ زندہ پید اہو یامردہ جب اس کا کوئی عضو ( جیسے ہاتھ ، پاؤں، انگلیاں ) بن چکا ہو ( جو کہ فقہائے کرام کی تصریحات کے مطابق 120 دن کے بعد بن جاتا ہے ) تو بچے کے نکلتے ہی نفاس کے احکام جاری ہو جاتے ہیں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.