Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
خریداری کے وکیل کا بغیر بتائے اپنا پروفٹ رکھنا
- Fatwa no.
- 1974-Web
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کوئی شخص کسی سے کہے کہ فلاں چیز بازار سے خرید لاؤ، جتنے کی چیز آئے گی میں وہ رقم ادا کر دوں گا، تو کیا بازار سے چیز لانے والا شخص اس کو بتائے بغیر یہ سوچ کر کہ بازار جانے میں میر اوقت بھی لگا ہے چل پھر کر ڈھونڈنا پڑا ہے اس میں سے اپنا پر وفٹ رکھتے ہوئے کچھ رقم زیادہ بتا سکتا ہے تاکہ محنت وصول ہو جائے؟
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں بغیر طے کئے اور بغیر بتائے پر افٹ کے نام پر اس شخص کا قیمت سے کچھ زائد رقم بتا کر لینا جائز نہیں۔ ہاں اگر کمیشن لینا ہے، تو پھر معروف کمیشن کے مطابق پہلے طے کرنا ہو گا، پھر طے شدہ رقم لے سکے گا۔ وکیل کو جو مال دیا جاتا ہے وہ امانت ہوتا ہے چنانچہ مجلۃ الاحکام العدلیہ میں ہے: ”المال الذي قبضه الوكيل بالبيع والشراء وإيفاء الدين واستيفائه وقبض العين من جهة الوكالة في حكم الوديعة في يده “ يعنى وه یعنی مال جسے وکیل نے وکالت کے طور پر خرید و فروخت، دین کی ادئیگی یا وصولی اور عین پر قبضے کے ذریعے حاصل کیا وہ وکیل کے قبضے میں ودیعت کے حکم میں ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.