Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
مسجد سے پانی بھر کر لے جانا یا اپنا سامان مسجد کے پانی سے دھونا
- Fatwa no.
- 1970-Web
- Issued
- 27 ربیع الاول 1446ھ /02اکتوبر 2024ء
Question
دهونا دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) بعض لوگ اپنے گھر دکان وغیرہ کے لئے مسجد سے بڑی بڑی بوتلیں بھر کر لے جاتے ہیں اور بعض لوگ اپنا کچھ سامان لا کر مسجد کے پانی سے دھوتے ہیں۔ کیا ایسا کر ناٹھیک ہے ؟
Answer (beginning)
مسجد کا پانی مسجد کے نمازیوں کے لیے ہوتا ہے، جسے عرف کے مطابق ہی استعمال کر سکتے ہیں۔ عرف سے ہٹ کر مسجد کا پانی بھر کر لے جانا، جائز نہیں۔ اسی طرح اپنی چیزیں مسجد میں لا کر دھونا بھی عرف کے خلاف ہے لہذا یہ بھی جائز نہیں۔ فتاوی رضویہ میں ہے: ”مسجد کے سقائے یا حوض جو اہل جماعت مسجد کی طہارت کو بھرے جاتے ہیں اگر مالِ وقف سے بھرے گئے ہوں تو مطلقا جب تک ابتدا سے واقف کی اجازت ثابت نہ ہو اور کسی نے اپنی ملک سے بھر وائے ہوں تو بے اس کی اجازت قدیم خواہ جدید کے گھروں میں اُن کا پانی اگر چہ طہارت ہی کیلئے لے جانار و انہیں طہارت ہو جائے گی مگر گناہ ہو گا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.