Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

منت مانی لیکن کام نہیں ہوا تو کیا حکم ہے؟

Fatwa no.
1966-Web
Issued
15 ربیع الثانی 1446ھ/19اکتوبر 2024ء

Question

اگر کسی کام کے ہونے پر منت مانی لیکن وہ کام نہیں ہوا، تو کیا پھر بھی منت پوری کر نالازم ہو گا ؟

Answer (beginning)

یہ بات تو واضح ہے کہ اگر شرعی منت کو کسی کام کے ہونے پر معلق کیا تو اس کام کے ہونے کے بعد ہی منت پوری کر نالازم ہو گا، کام ہونے سے پہلے منت پوری کر نالازم نہیں، بلکہ اگر کام ہونے سے پہلے کسی نے منت پوری کی تو وہ کافی بہارِ شریعت میں ہے : ”جس میں شرط ہے اس میں ضرور ہے کہ شرط پائی جائے، بغیر شرط پائی جانے کے ادا کیا تو منت پوری نہ ہوئی شرط پائی جانے پر پھر کرنا پڑے گا مثلاً کہا اگر بیمار اچھا ہو جائے تو دس روپے خیرات کروں گا اور اچھا ہونے سے پہلے ہی خیرات کر دیے تو منت پوری نہ ہوئی اچھے ہونے کے بعد پھر کرنا پڑے گا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.