Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کیا سودی رقم ذاتی استعمال میں لا سکتے ہیں؟
- Fatwa no.
- 1965-Web
- Issued
- 18 ربیع الثانی 1446ھ /122اکتوبر 2024ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا سود میں حاصل ہونے والی رقم ہم کھانے پینے کی اشیا میں خرچ کرنے کے علاوہ کسی اور چیز میں خرچ سکتے ہیں؟ جیسے بجلی و پانی کابل، گھر میں استعمال ہونے والی اشیا، گاڑی کے لئے پیٹرول ، گھر کا ٹیکس، گھر میں گیزر وغیرہ لگوانے جیسے کاموں میں یہ رقم لگا سکتے ہیں؟
Answer (beginning)
جی نہیں ! سودی رقم کسی بھی طرح ذاتی استعمال میں نہیں لا سکتے ، کہ سود ناجائز و حرام اور اس سے حاصل ہونے والا مال، مالِ حرام ہوتا ہے جسے ذاتی استعمال میں لانا جائز نہیں، نیز سودی معاملہ ختم کر کے اس سے توبہ کرنا اور تو بہ کے تقاضے پورے کرتے ہوئے اس حرام مال سے چھٹکارا حاصل کرنا بھی ضروری ہے۔ اس کی دو صورتیں ہو سکتی ہیں کہ یا تو ڈائر یکٹ ہی اس مال کو بغیر ثواب کی نیت کے کسی شرعی فقیر یعنی مستحق زکوۃ کو دے دیا جائے یا جس سے وہ مال لیا ہو ، اسے واپس کر دیں اور اگر وہ زندہ نہ ہو تو اس کے ورثاء کو دے دیں اور یہی بہتر ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.