Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

زندہ پیدا ہونے والے بچے کو بغیر غسل و نماز جنازہ کے دفن کردیا تو حکم؟

Fatwa no.
1959-Web
Issued
29 ربیع الاول 1446ھ /04اکتوبر 2024ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کوئی بچہ زندہ پیدا ہوا، پھر فوراً ہی فوت ہو گیا اور لوگوں نے غسل اور جنازہ کے بغیر ہی دفنادیا، تو اب کیا حکم ہوگا؟

Answer (beginning)

مسلمان کی نماز جنازہ فرض کفایہ ہے اور ایسا بچہ جو زندہ پیدا ہونے کے بعد فوت ہوا اس کی نماز جنازہ بھی فرض کفایہ تھی یعنی اگر ایک نے بھی پڑھ لی تو سب بری الذمہ ہو گئے، ورنہ جس جس کو اس کے انتقال کی خبر ملی اور اس نے نماز جنازہ ادانہ کی، تو سب گناہ گار ہوئے۔ وہ تو بہ کریں اب حکم یہ ہے کہ اگر اتنے دن نہیں گزرے کہ جس میں میت کے پھٹ جانے کا گمان ہو ، تو اس کی قبر پر ہی نماز جنازہ ادا کر لی جائے اور اگر یہ گمان ہو کہ میت پھٹ گئی ہو گی، تواب قبر پر بھی جنازہ نہ پڑھا جائے۔ نیز جب وہ بچہ زندہ پیدا ہوا تھا تو اس کو غسل دینا بھی فرض کفایہ تھا اور بغیر نہلائے دفنانا حرام تھا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.