Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا عمرہ کے لئے مدینہ میں 40 نمازیں پڑھنا ضروری ہے؟

Fatwa no.
1958-Web
Issued
01 ربیع الثانی 1446ھ /105اکتوبر 2024ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر عمرہ کرنے گئے، لیکن مدینے میں چالیس نمازیں ادانہ کیں، تو کیا عمرہ ہو جائے گا؟

Answer (beginning)

عمرہ مخصوص ارکان کی ادائیگی کا نام ہے، ان میں مسجد نبوی شریف میں نمازیں ادا کر نا شامل نہیں، لہذا اگر کسی نے ارکان عمرہ ادا کر لئے تو اس کا عمرہ ادا ہو گیا، فقط مسجد نبوی شریف میں چالیس نمازیں ادانہ کر ناعمرہ کی ادائیگی میں نقصان کا باعث نہیں۔ البتہ حدیث پاک میں مسجد نبوی شریف میں لگاتار چالیس نمازیں ادا کرنے پر ، دوزخ اور نفاق سے آزادی کی بشارت دی گئی ہے، لہذا مسلمانوں کو چاہئے کہ جب بھی موقع ملے کوشش کر کے اس فضیلت کو حاصل کریں۔ واضح رہے کہ یہ فضیلت حاصل کرنے کے لیے یہ نمازیں جماعت کے ساتھ پڑھناضروری نہیں، تنہا پڑھنے والے کو بھی یہ فضیلت حاصل ہو گی۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.