Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
قرض دینے کے بعد زکوۃ کی نیت کرنا کیسا؟
- Fatwa no.
- 1956-Web
Question
(دعوت اسلامی) ایک خاتون نے دوسری خاتون سے بطور قرض پانچ ہزار روپے طلب کئے ، تو اس خاتون نے اس کو پانچ ہزار روپے دے دیئے ، دیتے وقت یہ نیت تھی کہ واپس نہیں لوں گی پھر اگلے دن رقم دینے والی خاتون کو خیال آیا کہ لینے تو مجھے ویسے بھی نہیں ہیں، کیوں نہ اس میں زکوۃ کی نیت کر لی جائے، تو پھر اس خاتون نے ان پیسوں میں ایڈوانس زکوۃ ادا کرنے کی نیت کرلی، کیا ایسی صورت میں اس خاتون کی زکوۃ ادا ہو گئی؟ نیز کسی کو کوئی چیز دیتے وقت زکوۃ کی نسبت نہ ہو اور چیز اس بندے کے پاس موجود ہو ، تو کیا اس چیز پر زکوۃ کی نیت کر سکتے ہیں ؟
Answer (beginning)
اگلے دن اگر اس خاتون کے پاس وہ رقم موجود ہے اور وہ مستحق زکوۃ بھی ہیں اور زکوۃ کی نیت کرنے والی خاتون صاحب نصاب ہے، تو اگلے دن ان پیسوں میں زکوۃ کی نیت کی جاسکتی ہے، اگر لینے والی خاتون وہ رقم خرچ کر چکی یاوہ مستحق زکوۃ ہی نہیں ، تو نیت نہیں کر سکتے۔ اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ سے سوال ہوا کہ ایک شخص کے پاس مال زکوۃ کے قابل ہے ،اس نے سال گزشتہ کے بعد یکمشت روپیہ مسلمان محتاج کو دیا لیکن اس نے زکوۃ کی نیت بر وقت دینے کے نہ کی ، نہ اس کے دل میں خیال آیا کہ زکوۃ ادا کرتا ہوں ، بعد کو خیال آیا ہو تو یہ دیا ہوار و پیہ زکوۃ میں داخل ہوا یا نہیں؟
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.