Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کسی کو سعی و طواف کرواتے ہوئے اپنی سعی و طواف کرنا کیسا؟
- Fatwa no.
- 1948-Web
- Issued
- 29 ربیع الاول 1446ھ /104اکتوبر 2024ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) ایک شخص اپنے اہل و عیال کے بعض افراد کے ساتھ حرمین طیبین میں یہ نیت عمرہ آیا، پہلا عمرہ ادا کرنے کے بعد اس کی والدہ اور خالہ بسبب بزرگی اور اہلیہ بسبب بیماری بہت آزمائش میں مبتلا ھو گئیں اور ہجوم کی وجہ سے بچھڑ بھی گئیں ۔ اب سوال یہ ہے کہ مسجد عائشہ سے اگر مزید عمرے کرنے کی نیت سے احرام باندھا جائے اور تین بھائی مل کر ان میں سے ایک، ایک مریض کو معذوروں والی کرسی پر طواف وسعی کروائیں، تو کیا اس طریقے سے اُن تینوں بھائیوں کے طواف و سعی ادا ہو جائیں گے ؟
Answer (beginning)
اگر واقعی ان مریضوں کا ایسا عذر ہے کہ جس سے ان کے لئے ویل چیئر پر طواف وسعی کرنا جائز ہوتا ہے ، تو ان کاویل چیئر پر یوں افعالِ عمرہ ادا کرنا درست ہے ، اس سے ان کا عمرہ ادا ہو جائے گا، کوئی دم بھی واجب نہیں ہوگا، نیز جو افرادان کو ویل چیئر پر طواف وسعی کروائیں گے ، انہوں نے اگر اپنا احرام باندھ لیا اور طواف کرواتے وقت اپنے طواف کی نیت بھی کر لی ، تو ان کا بھی طواف ادا ہو جائے گا اور اس کے بعد سعی کروائی، تو سعی بھی ہو جائے گی اگرچہ سعی کرواتے وقت ان تینوں نے اپنی سعی کرنے کی نیت نہ کی ہو، کیونکہ سعی میں نیت شرط نہیں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.