Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا زندہ انسان کی روح جسم سے نکل کر سیر کرتی ہے؟

Fatwa no.
1943-Web
Issued
26 ربیع الاول 1446ھ / 101اکتوبر 2024ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا زندہ انسان کی روح جسم سے نکل کر سیر کر کے واپس آسکتی ہے؟

Answer (beginning)

اللہ رب العالمین کا فرمان ہے: "وَ هُوَ الَّذِي يَتَوَفُكُمْ بِالَّيْلِ وَيَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بِالنَّهَارِ ثُمَّ يَبْعَثُكُمْ فِيْهِ لِيُقْضَى أَجَلٌ مُسَمًّى ثُمَّ إِلَيْهِ مَرْجِعُكُمْ ثُمَّ يُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ (60) ترجمہ : اور وہی ہے جو رات کو تمہاری روحیں قبض کرتا ہے اور جانتا ہے جو کچھ دن میں کماؤ پھر تمہیں دن میں اٹھاتا ہے کہ ٹھہرائی ہوئی میعاد پوری ہو پھر اسی کی طرف تمہیں پھرنا ہے پھر وہ بتادے گا جو کچھ تم کرتے تھے۔ (سورۂ انعام، آیت 60) تفسیر نعیمی میں اس آیت کے تحت ہے: ” یہاں وفات سے مراد نیند ہے۔ خیال رہے کہ نیند کو موت کہنے کی چند وجہ بیان کی گئی ہیں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.