Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
پلاٹ خریدنے پر ٹوکن منی کے طور پر ایڈوانس دینا
- Fatwa no.
- 1877-Web
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) زید نے بکر سے ایک پلاٹ خریدنے کا معاہدہ کیا اور معاہدے کے وقت زید نے بکر کو ٹوکن منی یا بکنگ کے نام پر کچھ ر قم ایڈوانس دے دی تاکہ بکر یہ پلاٹ کسی اور کو نہ بیچے ، زید کی طرف سے دی جانے والی یہ رقم بعد میں پلاٹ کی کل مالیت میں ایڈ ہو جائے گی، کیا اس طرح ٹوکن منی دینا جائز ہے؟
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں ٹوکن کروانا جائز ہے لیکن خیال رہے کہ خرید و فروخت کا معاہدہ ہو جانے کے بعد بیچنے والے یا خریدنے والے کو یہ اختیار نہیں کہ وہ بلا وجہ شرعی معاہدے سے پھر جائیں اور ایک دوسرے کی رضامندی کے بغیر اس معاہدے کو ختم کر دیں۔ اگر باہمی رضامندی سے اس معاہدے کو ختم کرتے ہیں، تو خریدنے والے کی ادا کی ہوئی ساری رقم اسے واپس کر نالازم ہے۔ بعض لوگ ٹوکن ضبط کر لیتے ہیں یا مکمل رقم لوٹانے کے بجائے کم رقم واپس دیتے یا جرمانہ لیتے ہیں۔ یوں رقم لے لیا ہر گز جائز نہیں بلکہ ظلم کرنا اور باطل طریقے سے دوسروں کا مال کھانا ہے جو کہ حرام ہے اور وہ لیا ہو ا مال حلال نہیں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.