Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

غیر مسلم سے مسجد کی چھت وغیرہ کا کام کروانا کیسا؟

Fatwa no.
1875-Web

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) تعمیر شدہ مسجد کے اندر اس کی چھت پر سیلنگ کروانی ہے اور دیواروں پر ٹائلز لگوانی ہیں ، کیا کسی غیر مسلم مثلا عیسائی وغیرہ سے مسجد کے اندر کا یہ کام کروا سکتے ہیں ؟

Answer (beginning)

غیر مسلم سے مسجد کی تعمیر یاسیلنگ وغیرہ کروانے یا ٹائلیں لگوانے کی اجازت نہیں کہ یہ لوگ ناپاک ہوتے ہیں، غسل ان کا ہوتا نہیں اور باطنی ناپاکی سب سے بُری ہے اور ناپاک شخص کا مسجد میں داخلہ حرام ہے ، اسی وجہ سے کفار کو مسجد میں آنے دینا قرآن پاک نے منع فرمایا ہے۔ چنانچه قرآن کریم پاره 10 سور قد التو بہ آیت نمبر 28 میں ارشاد ہوتا ہے: ” یا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْمُشْرِكُوْنَ نَجَسٌ فَلَا يَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هذا ترجمہ کنز العرفان: اے ایمان والو ! مشرک بالکل ناپاک ہیں تو اس سال کے بعد وہ مسجد حرام کے قریب نہ آنے پائیں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.