Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

حجرِ اسود نظر نہ آنے پر استلام کا طریقہ؟

Fatwa no.
1874-Web
Issued
15 صفر المظفر 1446ھ /21 اگست 2024

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) طواف کرتے ہوئے رش زیادہ ہونے کی وجہ سے حجر اسود نظر نہیں آرہا ہوتا، اس صورت میں استلام کا کیا طریقہ اختیار کیا جائے ؟

Answer (beginning)

طواف کے شروع، در میان اور آخر میں استلام کرنا سنت ہے لیکن شروع و آخر کے استلام کا مسنون ہو نادر میان کے استیلام کے مقابلے میں زیادہ مؤکد ہے، استلام کا مطلب یہ ہے کہ ممکن ہو ، تو حجر اسود کا بوسہ لیا جائے اور ا گر رش زیادہ ہونے کی وجہ سے یہ ممکن نہ ہو ، تو حجر اسود کو اپنے ہاتھ سے چھو کر، ہاتھ چوم لے۔ یہ بھی ممکن نہ ہو ، تو کسی لکڑی سے اسے چھو کر ، اس لکڑی کو چوم لے اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہو ، تو اپنے ہاتھ سے حجر اسود کی طرف اشارہ کر کے ہاتھوں کو چوم لے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.