Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
سودی قرض لینے والے کو قرض اتارنے کے لئے قرض دینے کا حکم
- Fatwa no.
- 1882-Web
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) ایک شخص نے بینک میں سونار کھ کر ایک سال کے لئے پانچ لاکھ روپے قرض لیا اور بینک نے شرط یہ رکھی کہ ایک سال کے اندر چھ لاکھ روپے واپس کرنے ہیں، اگر ایک سال تک چھ لاکھ نہ دیئے ، تو سو ناضبط کر لیا جائے گا، اب سال پورا ہونے والا ہے، لیکن اس شخص کے پاس رقم کا انتظام نہیں ہو رہا ہے ، اب وہ اپنے کسی دوست سے ادھار لے کر بینک کی پیمنٹ ادا کر رہا ہے، معلوم یہ کرنا ہے کہ جو دوست اس کو ادھار رقم دے رہا ہے کیا وہ بھی گناہ گار ہو گا؟
Answer (beginning)
سود پر قرض لینابلا حاجت شرعی حرام ہے چاہے زیور گروی رکھوا کر ہی لیا جائے، ایسے شخص پر لازم ہے کہ اپنے اس عمل سے توبہ بھی کرے اور آئندہ کیلئے بھی اس سے بچے۔ البتہ دوست اگر گناہ پر تعاون کی نیت سے مدد نہیں کر رہا تو محض قرض دینے کے سبب گنہگار نہ ہو گا جبکہ دوست بھی بلا سود قرض دے۔ سود کی مذمت کے متعلق قرآن مجید فرقان حمید میں اللہ عز و جل نے ارشاد فرمایا: "وَاَحَلَّ اللهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الربوا “ ترجمہ کنز الایمان : اور اللہ نے حلال کیا بیع کو اور حرام کیا سود۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.