Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
حجِ تمتع والے کی قربانی رمی سے پہلے کرنے پر دم لازم ہوگا؟
Question
دار الافتاء ابلسنت (دعوت اسلامی) میں ریاض میں جاب کرتا ہوں، میں نے سعودی گورنمنٹ کے ایک ادارے کے ذریعے حج کی رجسٹریشن کی اور حج تمتع کیا، اس ادارے نے میری حج کی قربانی دس ذو الحجہ کو رمی سے پہلے کر دی اور مجھے بھی بذریعہ میسج اطلاع دی کہ میری قربانی کر دی گئی ہے ، کیا اس صورت میں مجھ پر دم لازم ہو گا؟
Answer (beginning)
اگر واقعی انہوں نے دس ذی الحجہ کو آپ کے رمی کرنے سے پہلے ہی آپ کی طرف سے قربانی کر دی تو اس صورت میں آپ پر ایک دم یعنی چھوٹے جانور کی قربانی حدود حرم میں کروانا واجب ہے کیونکہ متمتع حاجی پر واجب ہے کہ دس ذی الحجہ کو پہلے رمی کرے، پھر قربانی کرے اور پھر حلق یا تقصیر کروائے، جبکہ آپ سے اس واجب کی مخالفت ہوئی ہے ، لہذ ادم واجب ہو گیا۔ ستائیس واجبات حج میں ہے: ” قارن و متمتع پہلے دن کی رمی کر کے قربانی کرے گا پھر حلق یا تقصیر سے فارغ ہو گا، اس ترتیب کا لحاظ رکھنا واجب ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.