Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

قرآنی آیات والے برتن بے وضو چھونا یا اس میں پانی پینا کیسا؟

Fatwa no.
1788-Web

Question

ایسا برتن جس میں قرآنی آیات نقش ہوں، کیا ان کو بے وضو یا جنبی شخص چھو سکتا ہے اور اس میں پانی پی سکتا ہے؟

Answer (beginning)

جس بر تن یا گلاس پر سورت یا آیت لکھی یا نقش ہو بے وضو و جنب و حیض و نفاس والی کو اس کا چھونا یا منہ لگا کر پینا حرام ہے اور اس کا استعمال سب کو مکروہ ہے مگر جبکہ خاص بہ نیت شفاہو تو پاک باوضو شخص پی سکتا ہے۔ صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ” روپیہ کے اوپر آیت لکھی ہو ، تو ان سب کو (یعنی بے وضو اور جنب اور حیض و نفاس والی کو اس کا چھونا حرام ہے ، ہاں اگر تحصیلی میں ہو، تو تھیلی اٹھانا جائز ہے۔ یو ہیں جس بر تن یا گلاس پر سورہ یا آیت لکھی ہو، اس کا چھونا بھی ان کو حرام ہے اور اس کا استعمال سب کو مگر وہ مگر جبکہ خاص بہ نیت شفا ہو۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.