Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

قرآنِ پاک چھونا کونسی عبادت ہے؟

Fatwa no.
1785-Web

Question

قرآن پاک چھونا عبادت مقصودہ ہے یا غیر مقصودہ؟

Answer (beginning)

قرآن پاک چھونا عبادتِ غیر مقصودہ ہے یعنی یہاں اصل مقصودہ عبادت تلاوتِ قرآن ہے، چھونا اس کے لئے ایک وسیلہ ہے۔ ہدایہ میں ہے: ” بخلاف التيمم لدخول المسجد و مس المصحف، لانه ليس بقربة مقصودة“ يعنى بخلاف اس کے کہ کوئی اگر مسجد میں داخل ہونے کے لئے یا قرآن کو چھونے کے لئے تیم کرے کیونکہ مسجد میں داخل ہونا اور قرآن کو چھو نا عبادت مقصودہ نہیں ہے۔ (الهداية مع البناية، جلد1،صفحہ518،مطبوعہ:دارالفکر،بیروت) فتاوی رضویہ میں ہے: ”محدث بحدث اکبر خواہ اصغر نے قرآن عظیم چھونے یا جنب نے مسجد میں جانے کے لئے تیم کیا، تیم صحیح ہو جائے گا لیکن اس سے نماز روا، نہ ہو گی کہ مس مصحف یا دخول مسجد فی نفسہ کوئی عبادت…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.