Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

جو شخص داڑھی منڈواتا ہو، اس کی اذان کا حکم؟

Fatwa no.
1930-Web
Issued
15 ربیع الاول 1446ھ /20 ستمبر 2024ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) ایک ایسا شخص ہے جو داڑھی منڈواتا اور اذان دیتا ہے ایسے شخص کی اذان کا حکم شریعت میں کیا ہے؟

Answer (beginning)

اذان شعائر اسلام میں سے ہے تو یہ ایک اہم اور عظمت والا کام ہے۔ اس لئے فقہائے کرام رحمۃ اللہ علیہم فرماتے ہیں مستحب یہ ہے کہ اذان دینے والا شخص نیک ، صالح، پرہیز گار ہو لہذا اذان دینے کے لیے ایسے ہی شخص کو مقرر کیا جائے جبکہ داڑھی منڈوانا یا ایک مٹھی سے کم کر دینا، ناجائز و حرام ہے، ایسا کرنے والا شخص اعلانیہ گناہ کرنے والا ہے اور جو بار بار اعلانیہ گناہ کرے وہ فاسق معلن ہے اور فاسق معلن کی اذان مکروہ ہے ، لہذا اگر ایسا شخص اذان کہہ دے تو تو اگرچہ اذان کا اعادہ لازم و ضروری نہیں لیکن مستحب ضرور ہے کہ کوئی نیک شخص دوبارہ اذان کہے ،البتہ اقامت کا اعادہ نہیں کیا جائے گا کیونکہ اقامت کا اعادہ…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.